حضرت مولانا زبیر قاسمی علیہ الرحمہ ١٩٨١ میں میری عمر ١١/١٢ سال کی تھی ، جب میں نے جامعہ رحمانی مونگیر میں ، اول عربی میں داخلہ لیا تھا ، مجھے آج بھی اچھی طرح یاد ہے کہ میرے مشفق و مهربان استاذ حضرت مولانا عتیق الرحمن قاسمی مدظلہ نے میرا امتحان لیا تھا ، بیرون خانہ زندگی گذارنے کا یہ پہلا تجربہ تھا ، طلبہ کا جھرمٹ ، درجوں میں آنے جانے کی چہل پہل ، اساتذہ کرام کا آمنا سامنا ، کھانے کی لائن عصر بعد کی سبک خرامی ، زبان و بیان کی انجمن ، ان سب کے درمیان ایک شخص کو دیکھا : میانہ قد ، بھرا بھرا جسم ، روشن پیشانی کشادہ دہن ، چہرہ پہ ججتی ہوئی گھنی داڑھی سنت کے مطابق سنواری زلفیں ، جامہ زیب ، نفاست رنگ رنگ سے نمایاں ، رعب ودبدبہ پورے وجود سے ہویدا ، آنکھوں کی جنبش اور خدوخال سے تمکنت عیاں ، چال ڈھال سے وقار اور جلال نمایاں ، اس وقت چوں کہ میں کم سن تھا اس لیے اس شخصیت کے نقوش کی میں اس سے زیادہ تر جمانی نہیں کرسکتا تھا ، یہ تھے استادوں کے استاد محققوں کے محقق ، افقه الناس ، زمانہ ساز ، عہد آفریں ، نصف صدی سےزائد عرصہ تک مسند درس کی بہار حضرت اقدس مولانا زبیر احمدقاسمی رحمت اللہ...