قاضی شریعت حضرت مولانا محمد قاسم صاحب مظفر پوری رحمت اللہ علیہ
آج یعنی ستمبر ۲۰۲۰ کی صبح فجرکی نماز کے بعد واٹس ایپ
پر انتہائی سوگوار
اور تکلیف دہ اطلاع موصول ہوئی کہ مشہور عالم دین مفتی ، قاضی ، واعظ و خطیب ، رہبر اور
صاحب دل شخصیت حضرت مولانامحمد قاسم صاحب مظفر پوری خالق حقیقی سے جا ملے
وإناللہ و انا إليه راجعون
حضرت مولانا مرحوم کی طبیعت کافی دنوں سے علیل چل رہی تھی ، زیاده ناساز
ہونے پرمظفر پور کے ایک پرائیوٹ اسپتال میں داخل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں کے علاج اور
تیمارداروں کی توجہ اور خود ان کی قوت ارادی اور الله تعالی کے فضل سے طبیعت میں کافی
بہتری دیکھی گئی ، ایک دن متعلقین نے فیس بک پر ایک ویڈیو جاری کیا جس سے دل کو
قرار سا آ گیا کہ چلو اب حضرت روبصحت ہیں ، اس سے قبل مولانا کلیم اللہ صاحب سے
بات بھی کر چکا تھا ، اس دوران حضرت مولانا کو ڈسچارج کر دیا گیا اور گھر تشریف لے آئے ،
طبیعت میں کافی افاقہ محسوس کیا جارہاتھا لیکن1 ستمبر کی اخیر شب تقریبا تین بجے کے انتہائی غیر
متوقع طور پر حضرت نے اس جہان فانی سے دار بقاء کے لیے رخصت سفر باندھ لیا ۔
امت اسلامیہ کے اکابر اور مخلص دینی وملی قائدین کا ایک تسلسل کے ساتھ امت کو
داغ مفارقت دینا ایک سانحہ اور المیہ سے کم نہیں ہے ، یکم زور اور در ماندہ قوم اپنے بزرگوں ،
علماء اور مخلص رہبروں کی سر پرستی سے محروم ہو کر کیا کرے گی ؟ کہاں جائے گی ؟ یہ سوال ہر
دردمند دل کو کچوکے لگا ہی رہا تھا کہ اسی دوران حضرت علامہ مولانا محمد قاسم صاحب مظفر
پوری نور الله مرقدہ کی رحلت نے مزید نڈھال کر دیا جیسا کہ میں محسوس کرتا ہوں کہ حضرت :
یوں تو پورے ہندستان کے لیے نمونہ سلف تھے اور اپنے علم و فضل سے ہرگوشہ کو منور کیا تھا ؟
لیکن حضرت والا بخصوص شمالی بہار اور نیپال کے جنوبی خطہ کے لیے ایک سر پرست اور مرجع
تھے اور انہوں نے اپنی اس عظیم ذمہ داری کو تادم آخر نبھایا تھا ۔
میرا گھر جہاں ہے اس آبادی کا مراکز علم دین اور مرجع خلائق شخصیات سے کوئی
گہرا رابطہ و تعلق نہیں تھا ، ۲۰ ویں صدی کی ۸۰/۷۰ کی دہائی تک معدودے چند افراد
نے ہی ہندستان کی مرکزی درسگاہوں سے سند فضیلت حاصل کی ، اس کے بعد اس میں
قدرے وسعت پیدا ہوئی ، میں نے بھی نیپال سے نکل کر ہی اکابر امت کو جانا ، پہچانا کسب
فیض کیا کئی ایک علمی دینی اور ملی شخصیات سے ذاتی ربط و تعلق ہوا ، حضرت مولانا مرحوم سے 90
کی دہائی کے آغاز میں باضابطہ تعارف ہوا تھا ، یوں ان کی شخصیت میرے گاوں ہی
نہیں ؛ بلکہ علاقہ کے لیے غیر متعارف نہیں تھی ، کیوں کہ مدارس کے پروگراموں اور جلسوں
میں ان کا آنا جانا رہتا تھا صغرسنی اور ماحول کی وجہ سے دور سے قبل متعارف نہیں ہو سکا ۔
غالبا میں حضرت قاضی مجاہد الاسلام قاسمی نوراللہ مرقدہ کی قیادت میں
امارت شرعیہ بہارواڑیسہ کا تبلیغی و دعوتی وفد ایک ہفتہ کے لیے کشن گنج ، ارریہ، پورنیہ ، کٹیہار
کے دورہ کے لیے نکلا ، میرے کرم فرما حضرت مولانا انیس الرحمن قاسمی ناظم امارت ، میرے
دوست مفتی نسیم احمد قاسمی مرحوم اس قافلہ کی زینت تھے میرے استاد حضرت مولانا نور الحق
صاحب رحمانی بھی کچھ منزلوں تک اس قافلے کے ہم رکاب رہے ، شاید ایک دو پروگرام ہو چکا
تھا کہ ہمارے قافلے میں مزید ایک فرد کا اضافہ ہوگیا ۔
در میان قد کشادہ پیشانی مسکراتا چہرہ سرا پاتواضع مجسم اخلاق ، پیکر انکسار ساده
لباس ، سادہ مزاج ، ذاکر و شاغل ، ہمہ دم قاضی صاحب کی باتوں پر نثار ۔ یہ کوئی اور نہیں ،
انہیں ہی میں نے بعد میں حضرت مولانا قاسم صاحب مظفر پوری کے نام سے جانا ، جب ان
کے بیانات سے ذاتی مجلسوں میں علمی موضوعات پران کے تبصرے آئے طبیعت کی بہار
دیکھی اور اہل علم شخصیت کو اور خود حضرت قاضی صاحب علیہ الرحم کو ان کا قدر دان پایا تو ان
کی سادگی اور تواضع کے باوجود ان کی ہمالیائی شخصیت کا سکہ بیٹھ گیا جو آج تک قائم ہے ۔
امارت آمد ورفت اور پروگراموں میں ملاقاتیں ہوتی رہیں ، ایک بار مدرسہ رحمانیہ
سپول بھی دار التعلیم والتر بیت کے لیے ایک باصلاحیت استاد کے حصول کی خاطر حاضری
ہوئی تھی ، عشاء کے وقت پہونچا تھا بہت تپاک سے ملے ، دل کھول کر باتیں کیں بعض علمی
موضوعات پراستفسار بھی کیا جن کا حضرت نے تشفی بخش جواب دیا ، یہاں بھی ان کی سادگی
او منکسر المزاجی کے جلوے دیکھے ۔
دار التعليم والتر بیت ، رمول ، سرہا ، جب ایک مکتب کی شکل میں تھا تب ہی سے
حضرت کی یہاں آمدورفت رہی ہے اپنی بڑی شخصیت شہرت مرجعیت اور مشغولیت کے
با وجود دارالتعلیم اور میرے خانواده کوترجیحی فہرست میں رکھتے تھے میرے چچا جناب الحاج
عمر على صاحب مرحوم سے بڑے برادرانہ مراسم تھے ، انہیں کے یہاں قیام ہوتا تھا ، وہ
حضرت مولانا کی بڑی عزت و تکریم کرتے تھے ، اسی طرح میرے عم زاد جناب ماسٹر شکراللہ
صاحب مرحوم سے بھی بڑی محبت کرتے تھے ، یہ بھی حضرت مولانا کے تعلق وارادت کو اپنے
لیے سر مایہ سمجھتے تھے ، دارالتعلیم و التربیت کے صدر محترم جناب الحاج محمد نصیر صدیقی صاحب
سے بھی حضرت کا خاصہ قلبی لگاؤ دیکھا گیا صدر صاحب بھی مولانا سے اپنے خاص بزرگوں سا
برتاو کرتے تھے اکثر میرے چچا الحاج عمر علی صاحب مرحوم دربھنگہ بغرض علاج تشریف
لے جاتے تھے ، وہاں حضرت مولانا سے طویل ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہتا ، دکھ سکھ کی
باتیں ہوتیں فقہی اورعلمی ذخیرہ ہی کی طرح حضرت مولانا کے پاس قرب و جوار اورمختلف
گاؤں اور وہاں کے خاندانوں کے بارے میں معلومات کا اچھا خاصہ مواد تھا ؛ چنانچہ ہمارے
خاندان کے قدیم اجداد اور اسلام پور ، رائے پور کهتل پور ، مادھوپور جیسے متعدد گاؤں میں
باقیات پر تبادلہ خیال ہوا کرتا تھا ، حضرت مولانا سے میری جب بھی کسی پروگرام میں یا کسی
مدرسہ میں ملاقات ہوتی تو فردا فردا نام لے کر ہر ایک کی خیر یت و عافیت دریافت کرتے اور
دعاؤں سے نوازتے تھے ، بخاری کے تر جمہ الباب کو سمجھانے والا ، فقہ کی گتھیوں کو سلجھانے
والا قضاء کے مشکل اور کٹھن معاملات سے نبرد آزما ہونے والا ایک پسماندہ اور تھکی ہوئی
قوم کی رہبری کرنے والا ، ہمہ دم اوراد و وظائف اور معمولات میں مشغول یہ عبقری شخصی شخص
زندگی کی چھوٹی موٹی جزئیات پر جس قدر گہری نظر رکھا تھا وہ کسی عام آدمی کے بس کا روگ
نہیں ، ایسا کوئی وقت کا ولی کامل ہی کر سکتا ہے ۔
مسلم معاشرہ میں ہمارے زمانہ میں جس طرح خاندانوں ، رشتوں ، ناتوں اور
خویش و اقارب کے مابین پاس ولحاظ ، ادب واحترام ، صلہ رحمی ، ایثار قربانی ، ہمدردی اور
محبت کا جذبہ مفقود ہوتا جارہا ہے اور رشتوں کی حرمت کی دھجیاں اڑی جارہی ہیں اس کے لیے
حضرت مولانا بہت فکر مند تھے کئی بار کی مجلسوں میں بڑے دردوکرب کے ساتھ فرمایا کہ دو
بھائی ایک بطن اور ایک نطفہ سے پیدا ہونے والے ، ایک آغوش مادر میں پرورش پانے
والے ، ایک بستر پر سونے والے کے درمیان ایسی خلیج بن جاتی ہے کہ دونوں دست گریباں
اور باہم دشمن بن جاتے ہیں ، گھر یلو چپقلش اور رنجش منافرت کو اس قدر بڑھا دیتی ہے کہ
ایک دوسرے کی شکل دیکھنے کے روادار نہیں ہوتے ، حضرت مولانا نے اس موضوع پر ایک
رسالہ بھی مرتب فرمایا تھا اور مجھے بھی عنایت فرمایا تھا ۔
خصوصی ملاقاتوں اور جلسوں میں انتہائی دل سوزی کے ساتھ علماء کرام اور نوجوان
فضلاء سے اخلاص وللہیت ، انابت الی الله اور اقامت دین کی باتیں فرماتے ، ان دو آیتوں کا
اکثر ذکر کرتے ، اس کی تشریح وتوضیح فرماتے : واتقوا يوما ترجعون فيه إلى الله اور فاذكروا آلاء الله لعلكم تفلحون
آخری بار چار سال قبل دارالتعلیم والتربیت ، ایک عمارت کے سنگ بنیاد کے لیے
تشریف لائے تھے حضرت مولانا وصی احمد صدیقی علیہ الرحمہ اور حضرت قاری شبیر صاحب
بھی رونق مجلس تھے ، دن میں آمد ، شب کا قیام ، پھرصبح کو قدرے تاخیر سے ناشتہ کے بعد
واپسی ، اس سارے دورانیہ میں جب بھی موقع ملتا بس وہی آخرت ، وہی انابت الی الله ، وہی
رجوع الی الله ، اقامت دین ، صلہ رحمی ، ایثار قربانی نصح و خیر کی مشکبار باتیں ہم سارے
لوگوں نے کافی فائدہ اٹھا یا ، جلسے جلوس سے زیادہ حضرت مولا نا اسی طرح کی مجلسوں کی
نافعیت کے قائل تھے ، مجھے یاد ہے کہ فجر بعد میں نے طلبہ کے لیے کچھ ناصحانہ کلمات کی
درخواست کی تھی تو فرمایا ضرور تم جاو آرام کرو میں طلبہ سے باتیں کرتا ہوں ، میں اساتذہ
سمیت وہاں سے چلا آیا معلوم ہوا کہ پہلے عربی اورحفظ کے درجات کے کوائف معلوم کیے ،
طلبہ سے اسباق کا حال جانا ، کتابوں سے متعلق سوالات کیے ، پھر ناصحانہ کلمات ارشادفرمانے
کے بعد دعاء کے لیے ہاتھ اٹھایا ، جاتے جاتے مجھ سے تعلیمی صورت حال پر اطمینان کا اظہار
فرمایا اور اساتذہ کی محنت کے لیے مبارک باد دی ، مجھے تاکید کی کہ توجہ سے عمارت
لائبریری ) بنوانا تا کہ جب اگلی بارآوں تو اس لائبریری سے استفادہ کر سکوں ۔
طبعا رقیق القلب تھے علم کے ساز کے ساتھ قلب وجگر کا سوز ان کا خاصہ تھا ،
روحانی معمولات و مشاغل نے اس سوز کی تپش کو اور بڑھا دیا تھا ، جلوت وخلوت ہر جگہ ان
کے قلب کا گداز ، روحانی پاکیزگی اور ایمان افزا باتوں کی خوشبو ہر کس و ناکس محسوس کر لیتا
تھا عظیم الشان اجلاس ہو یا چار افراد کی خصوصی مجلس تعلق مع الله ، آخرت خوف خدا ، حشرو
نشر، الله کی نعمتوں کی قدر وغیرہ سے ماحول معطر ہوجاتا تھا ، ہر چھوٹی بڑی مجلس کے بعد دعا کا
خصوصی اہتمام فرماتے ، مجلس خواہ عام لوگوں کی ہی کیوں نہ ہو ، وہ بلا درخواست بھی دعاء
کے لیے ہاتھ اٹھا لیتے تھے اور حاضرین کے لیے بڑی دل سوزی کے ساتھ دعا فرماتے ۔
اپنے گاوں اور علاقہ کے بچوں کی تعلیم وتربیت کے لیے اپنے آبائی گاوں ، مادھو پور
میں ہی تقریبا تین دہائی قبل " مدسہ طیبہ" کے نام سے ایک مدرسہ قائم کیا جس محلہ میں مدرسہ قائم
کیا اس کا نام منت نگر رکھا طیبہ اور منت سے واضح اشارہ حضرت حکیم الاسلام قاری طیب
صاحب نور اللہ مرقدہ اور امیر شریعت حضرت مولانا منت اللہ رحمانی رحمۃ اللہ علیہ کی جانب
ہے ، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے اکابر سے کس قدر محبت رکھتے تھے ۔ ہر بن موسے اکابر
کی خوشبو پھیلتی دکھائی دیتی تھی ، یہ مدرسہ کسی بڑے دارالعلوم یا جامعہ کے مقصد کے پیش نظر
نہیں تھا بلکہ چھوٹے چھوٹے بچوں کی تعلیم اور ان کی تربیت پر ارتکاز ان کا مطمح نظرتھا وه
فرماتے بھی تھے کہ اعلی تعلیم کے لیے پر شکر پور جا ئیں ، ندوه و دیو بند جا ئیں ؛ حالاں کہ
مولانا کی اپنی شخصیت اتنی عظیم مقبول و مشہور ، مرجع خلائق اور ہر دل عزیزتھی اور ان کے
خانوادہ میں چندے آفتاب ، چندے ماہتاب علمی اور کارگر شخصیات تھیں اور ہیں کہ ایک
دار العلوم کا نظام باسانی چلایا جاسکتا تھا لیکن ان کی دوربیں نظر اور فکررسا اور بے ریا و بے
لوث شخصیت نے اسے گوارا نہیں کیا ۔
حضرت مولانا معتمدا کا برھی تھے ، حضرت قاضی صاحب علیہ الرحم کو ان کے عمیق
علم ،تفقه ، تقوی وطہارت اور بصیرت پر گہرا اعتادتھا مدرسہ اسلامیہ شکر پور سے آپ سبھی
حضرات واقف ہیں ، شمالی بہار ہی نہیں ، بلکہ میں کہتا ہوں کہ اپنی کارکردگی اور خدمات کے
لحاظ سے بہار کا اہم ترین اور صف اول کا ادارہ ہے ، حضرت مولانا قاری شبیر صاحب دامت
برکاتہم العالیہ کی نظامت اور تحرک و فعال اساتذہ کی محنت نے اس کی شہرت کو دوبالا کر دیا
ہے حضرت قاضی صاحب عرصہ دراز تک اس کے صدر رہے اور واضح رہے کہ اشتہاری یا
پمفلٹ اور کتابچہ میں محدود نہیں تھے بلکہ با اختیار صدر تھے حضرت قاضی صاحب
علیہ الرحمہ نے اپنی زندگی میں ہی تحریری طور پر حضرت مولانا قاسم صاحب مظفر پوری کو اپنا
جانشیں بنا دیا تھا ، یہ فیصلہ کس قدر ، بر وقت اور مناسب حال تھا کہ بعد کے ایام میں اس کی
صحت پر مہر ثبت ہوگئی ۔
حضرت مولانا انتہائی سادہ لوح منکسر المزاج ، متواضع اور خلیق انسان تھے ، اس
کے ساتھ گہری بصیرت کے بھی مالک تھے ، اصول پسند ، معاملات میں بالکل بے لچک اور بر
وقت اقدام اور فیصلوں کی بھر پور صلاحیت رکھتے تھے ، مسائل ، معاملات کو اصول و ضابطہ
کے مطابق انتہائی حکمت اور باریک بینی کے ساتھ حل کرنے کا ہنر اورفن جانتے تھے ، کئی
ایک معاملات میں لوگوں نے اس کا مشاہدہ بھی کیا ؛ چنانچہ حضرت قاضی صاحب کی حیات
میں ہی ایک ملازم ، مدرسہ اسلامیہ شکر پور سے برطرف کردیا گیا تھا ، حضرت قاضی صاحب کی
وفات کے بعد حضرت مولانا قاسم صاحب کے ابتدائی صدارتی عہد میں یہ مسئلہ ازسر اٹھ گیا
کہ اس برطرف ملازم کو بحال کرنا چاہیے لیکن حضرت مولانا علیہ الرحمہ نے بحیثیت صدر
حضرت قاضی صاحب کے فیصلے کو برقرار رکھا اور اس پر استقامت کے ساتھ جمے رہے ، اسی
مدرسہ میں ایک موقع سے عملہ نے متفقہ طور پر انتظامیہ کو لکھ کر دے دیا کہ مسئلہ کفاف پرنظر
ثانی کیا جائے ورنہ فلاں تاریخ سے ہماری خدمات موقوف رہیں گی عملہ تھوڑا جذباتی ہو گیا
ظاہر ہے کہ مسئلہ ذرا پیچیدہ تھا لیکن حضرت مولانا کی عملہ کے ساتھ ایک مختصر نششت نے نہ
صرف مسلئہ حل کر دیا بلکہ فضا سازگار بنادیا ۔ عملہ اور انتظامیہ نے شیر وشکر بن کر کام کرنا
شروع کردیا ۔
حضرت مولانا کی انکساری اور خاکساری کبھی بھی اصولی موقف میں مزاحم نہیں بنی ،
اپنی صوابدید اور اصول و ضابطہ کے مطابق اگر کوئی موقف اختیار کرتے پھر اس پر سختی کے


اللہ ان کو اور ہم تمام کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے
جواب دیںحذف کریںMasha Allah
جواب دیںحذف کریں