فقیہ ملت حضرت مولانا زبیر قسمی علیہ الرحمہ
![]() |
| حضرت مولانا زبیر قاسمی علیہ الرحمہ |
١٩٨١ میں میری عمر ١١/١٢ سال کی تھی ، جب میں نے جامعہ رحمانی مونگیر میں ، اول عربی میں داخلہ لیا تھا ، مجھے آج بھی اچھی طرح یاد ہے کہ میرے مشفق و مهربان استاذ حضرت مولانا عتیق الرحمن قاسمی مدظلہ نے میرا امتحان لیا تھا ، بیرون خانہ زندگی گذارنے کا یہ پہلا تجربہ تھا ، طلبہ کا جھرمٹ ، درجوں میں آنے جانے کی چہل پہل ، اساتذہ کرام کا آمنا سامنا ، کھانے کی لائن عصر بعد کی سبک خرامی ، زبان و بیان کی انجمن ، ان سب کے درمیان ایک شخص کو دیکھا : میانہ قد ، بھرا بھرا جسم ، روشن پیشانی کشادہ دہن ، چہرہ پہ ججتی ہوئی گھنی داڑھی سنت کے مطابق سنواری زلفیں ، جامہ زیب ، نفاست رنگ رنگ سے نمایاں ، رعب ودبدبہ پورے وجود سے ہویدا ، آنکھوں کی جنبش اور خدوخال سے تمکنت عیاں ، چال ڈھال سے وقار اور جلال نمایاں ، اس وقت چوں کہ میں کم سن تھا اس لیے اس شخصیت کے نقوش کی میں اس سے زیادہ تر جمانی نہیں کرسکتا تھا ، یہ تھے استادوں کے استاد محققوں کے محقق ، افقه الناس ، زمانہ ساز ، عہد آفریں ، نصف صدی سےزائد عرصہ تک مسند درس کی بہار حضرت اقدس مولانا زبیر احمدقاسمی رحمت اللہ علیہ۔
آہ ! وقت کس طرح گذر جاتا ہے پتہ نہیں چلتا محسوس ہوتا ہے یہ چار دہائی کوئی حقیقت نہیں محض افسانہ تھی ، غالبا درد نے عمر اور وقت گذرنے کی بہترین عکاسی کی ہے
وائے ناکامی کے وقت مرگ یہ ثابت ہوا-
خواب تھا جو کچھ کہ دیکھا،جو سنا، افسانہ تھا
آج جب کہ یہ سطریں لکھی جارہی ہیں تو یہ ظلوم وجہول بھی نصف صدی پارکر چکا ہے ۔
دوسال میں نے جامعہ رحمانی میں گذارے، 1986 ء میں ، میں نے دارالعلوم سبیل السلام حیدر آباد میں عربی
ششم میں داخلہ لیا ، یہ دیکھ کر بڑی خوش گوار حیرت ہوئی کہ میرے استادحضرت مولاناعتیق الرحمن قاسمی کے علاوہ جامعہ رحمانی میں جن اساتذہ کے فضل وکمال کا غلغلہ اور آواز بلند تھاانہیں یہاں دیکھ رہا ہوں ، چنانچہ حضرت مولانافضل الرحمن قاسمی علیہ الرحمہ اور حضرت الاستاد مولانا زبیر احمد قاسمی علیہ الرحمہ اپنے پورے وقار او عملی جاه و جلال کے ساتھ یہاں فروکش ہوئے ششم سے لے کر دورہ حدیث ، پھر تخصص فی الفقہ کا زمانہ یہیں گذرا ، ان تمام سالوں میں امہات کتب حضرت علیہ الرحمہ سے پڑھیں ، ان کے زیر سایہ رہا ، ان کی تربیت اور توجہ کا مرکز ( اپنی نالائقی کے باوجود ) راقم الحروف ہمیشہ بنا رہا ، ان ماہ و سال اور بعد کے دنوں میں ، میں نے جو کچھ دیکھا ، جو سنا ، جو برتاو مختصرا عرض کر رہا ہوں ، اس تحریر کا مقصد ان کی پوری زندگی اور ان کے علمی کمالات کا احاطہ نہیں ؛ بلکہ آپ بیتی کے پس منظر میں حضرت کے زندگی کے بعض پہلووں کو اجاگر کرنا ہے ۔ اصول پسندی : حضرت اپنے اوقات درس مطالعه نششت و برخاست ، نماز ، خوراک و پوشاک ، غرضیکہ ہر چیز میں اپنا ایک رنگ و آہنگ رکھتے تھے کبھی بھی اس میں سرمو انحراف نہیں دیکھا ، فرائض کی پابندی سنتوں کا اہتمام اور وقت پر مسجد حاضری کے معمول میں بھی کوئی فرق نہیں دیکھا گیا ، بعد مغرب اگلے دن کے درس کی تیاری و مطالعه ، رات کے کھانے کے بعد تھوڑی دیر کتابوں کی الٹ پلٹ ، پھر سونے کی تیاری ، کھا نا ناشتہ میں نظم و ضبط کی پابندی ، درسگاہ میں بالکل وقت پر پہونچنا طلبہ سے ہنسی مذاق کی گفتگو سے کوسوں دور ، رکھ رکھا اور وضع داری کا حد درجہ پاس ولحاظ ، اپنی ذمہ داری سے الگ ہٹ کر دوسروں کے معاملات میں مداخلت سے مکمل گریز ۔ حیدر آباد میں جس قدر سختی کے ساتھ اپنے اصول و اقدار پر کار بند دیکھا ، گاہے گاہے بعد کی ملاقاتوں اور احباب کی روداد سے معلوم ہوا کہ زندگی اسی انداز اور نهج پر گذر رہی ہے بعض حضرات ان کی اصول پسندی کو درشت مزاجی اور سختی سے تعبیر کرتے ہیں لیکن یہ بہت بڑی غلط فہمی بھی ہے جو ان کو بہت قریب سے نہ جاننے کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے ، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ اصول ہے کہ اساتذہ بلا مطالعه درسگاہ میں نہ جائیں ! اب اس پرخودبھی سختی سے عمل کرتے ہیں اور اپنے اساتذہ سے بھی لازما عمل کراتے ہیں تو کیا غلط ہے ؟ تو عین مطلوب ہے ۔ مدرسہ کا نظام اور ضابطہ اس لیے ہوتا ہے کہ اسے روبہ عمل لایا جائے ، اگر اس کی سختی کے ساتھ پابندی کرائی جاتی ہے ، نہ کرنے پر دارد گیر ہوتی ہے تو کیا برا ہے ؟ درحقیقت اصول و اقدار اورنظم و ضبط میں تساہل بے شمار فتنے کا ذریعہ بنتا ہے ، اس لیے حضرت مولانا نے پوری زندگی اس معاملہ میں کسی طرح کی مفاہمت سے کام نہیں لیا اور بذات خود بھی غفلت نہیں برتی ۔ انداز تدریس : میں نے حضرت سے بخاری کے علاوہ ہدایہ مختصر المعانی ، سرابی جیسی عظیم اور امہات کتب پڑھی ہیں ؛ اس لیے حضرت کے پڑھنے پڑھانے کے سلسلہ میں ، مجھے بہت اچھی طرح معلوم ہے اور چار سالہ تجربہ ہے ممکن ہے کہ ان سے بڑے علم وفضل والے ، شهرت ، ناموری والے ، صاحب تصنیف اور ارباب جبہ و دستار ہوں لیکن ان جیسا مدرس ، بر صغیر میں نایاب نہیں تو کم یاب ضرور ہے ۔ چند باتوں کا ذکر شاید مناسب حال ہو
١:- کتاب کے مضمون و معانی اور درس کی زبان میں کہیے تو ماله وماعلیہ پر ان کی مکمل گرفت ہوا کرتی تھی کبھی ایسامحسوس نہیں ہوا کہ ان کی خود اعتمادی اور اپنے درس میں پختگی میں کمی آئی ہو ، بسا اوقات ذہین اور مطالعہ کے عادی طلبہ کو پتہ چل جاتا ہے کہ استاذمحترم کی جانب سے جو خوراک آرہی ہے اس میں کہیں نہ کہیں جھول ہے لیکن میں بلا مبالغہ کہتا ہوں کہ انہوں نے مسند درس کے ساتھ ہمیشہ انصاف کیا ہے اور بلاشبہ ریاست درس کے وہ عادل بادشاہ رہے ہیں ۔ ۲ : -طلبہ سے نحو وصرف کی رعایت کرتے ہوئے اور حتی الامکان قبل از درس عبارت فہمی کی کوشش کی تلقین کے ساتھ درس کا آغاز ہوا کرتا تھا ، خود بھی کتاب اور کتاب کے مضمون کی جانب متوجہ رہتے اور کیا مجال کہ کوئی طالب علم ان کے درس سے غائب دماغ ہو جائے ، اکثر جملہ ادھورا چھوڑتے اور طلبہ سے جملہ مکمل کرنے کا انتظار فرماتے ، خدانخواسته اگر کوئی کند ذہن اور غبی طالب علم اس ادھورے جملہ کی زد میں آتا تو اس غریب کا امتحان سے پہلے امتحان ہوجاتا ، ان کے اس انداز کی وجہ سے اکثر طلب محتاط رہتے ، درس سے پہلے تکرار میں ان کی کتابوں پر طلبہ کی توجہ خاطر خواہ مرکوز رہا کرتی تھی اور دیکھا گیا کہ طلبہ حضرت سے متعلق کتابوں کی عبارت خوانی اور عبارت فہمی میں نسبتا زیادہ محنت کرتے تھے ۔ ٣: - تیسری جو چی انہیں ہم عصروں میں ممتاز کرتی ہے وہ ان کی قوت تفہیم ہے ۔ میں پورے وثوق اور اعتماد کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ طلبہ کو کتاب سمجھانے میں جس قوت ، ذہانت اور خدا داد ملک کا استعال فرماتے وہ اپنی مثال آپ ہے ، انہیں جب تک یقین نہیں ہو جاتا تھا کہ طلبہ نے آج کا درس سمجھ لیا ہے اس وقت تک مضمون کومختلف انداز اور پیرایہ میں بیان فرماتے ، میں نے یہاں تک دیکھا کہ پیشانی عرق آلود ہو چکی ہے تھک چکے ہیں لیکن تفہیم کا سلسلہ جاری ہے ، مجھ جیسا کنده نا تراش بھی حضرت کے درس سے پوری عبارت ، مفہوم اور مضمون سمجھے بغیر بھی نہیں اٹھا ، بھلا ان طلبہ کے بارے میں آپ کیا فرماسکتے ہیں جو فہم وذکاء میں مجھ سے اعلی و برتر تھے ۔ مجھ سے ہی متعلق چھوٹا سا واقعہ شاید دل چسپیوں سے خالی نہ ہو کہ میں آغاز تعلیم سے ہی حساب میں کمزور تھا ، ایک آدھ دفع فیل بھی ہوا ، جب عربی کے درجات میں پہنچا تو سوچا کہ چلو جان چھوٹی ،دورہ حدیث مکمل کر کے جب تخصص فی الفقہ میں داخل ہوا تو پتہ چلا کہ یہ بلائے جان یہاں بھی منتظر ہے ؛ کیوں کہ سراجی کا سارا کاروبار اسی آفت سے منسلک تھا ، ابتداء میں جوڑ گھٹا تک گاڑی چلتی رہی لیکن اس کے بعد دقت پیش آنے لگی ، ایک دن میں نے حضرت سے دریافت کیا کہ حضرت حساب کے لیے کو لیٹر لے لوں ! حضرت نے پوچھا وہ کیا ہوتا ہے ؟ میں نے کہا چھوٹی سی مشین ہوتی ہے بغیرکسی تعب و تکان کے بٹن دبا ئیں ، حساب نکل آتا ہے ، حضرت نے اپنے مخصوص انداز میں فرمایا : ” محنت سے بھاگتے ہو ، تمہارے نیپال میں کوئی مفتی بنتا ہے جوتم بنوگے ؟ “ پھر بقدر ضرورت حضرت نے مجھ جیسے نابلد کوضروری حسابی قواعد سے آشنا کرایا ، یہاں تک کہ مناسخہ میں بھی کامیاب رہا ، افسوس کہ مشق ومزا ولت نہ ہونے کی وجہ سے اس معاملہ میں پھر سے کنده نا تراش بن گیا ، ایک دفعہ اشرف العلوم ملاقات کی غرض سے گیا اور اپنی اس نا اہلی کی شکایت کی ، فرمایا دو چار دن کے لیے کنہوا چلے آؤ ! کوئی خاص بات نہیں ، ہوجائے گا ، افسوس کےغم دوران نے اس قابل نہیں رہنے دیا کہ ایک بار پھر زانوئے تلمذ تہ کر سکوں ۔ صاحب دل ، صاحب درد : حضرت کے چند معروف بخصوص الفاظ ( جن سے ان کے تمام شاگردآشنا ہیں ) سے بہت سے طلبہ اور عام لوگوں کو یہ غلط فہمی ہوجایا کرتی تھی کہ یہ بہت زیادہ درشت مزاج اور سخت گیر آدمی ہیں اور خدانخواستہ خلق خدا سے بے زار رہتے ہیں لیکن بات ایسی نہیں تھی ، حضرت ایک سچے کھرے ، ایماندار انسان تھے ، ان کی شخصیت میں بناوٹ اورشمع سازی نہیں تھی ، ان کا اپنی مخصوص رنگ و آہنگ ، انداز گفتگو اور اسلوب تھا ، اور تادم آخر میں ویسے ہی رہے ، اور یقین جانیے محسوس کرنے والے بلا تکلف محسوس کر لیتے کہ یہ شخص سچی اور بے لوث محبت کرنے والا ہے ، طالب علمی کے ابتدائی دور میں مجھے حضرت اپنے خصوص " خطابات سے نوازتے تو طبیعت تھوڑی مکدر ہو جاتی لیکن جب قدرے مزاج آشنا بنا تو معلوم ہوا کہ ان کی سختی کے پیچھے محبت کا بحر بیکراں پنہاں ہے ۔ حضرت سے آخری ملاقات اشرف العلوم کنہوا کے صد سالہ اجلاس میں ہوئی ، حضرت ضعف و نقاہت کی وجہ سے اسٹیج پر ہی لیٹے ہوئے تھے ، میں نے سلام کیا ، جواب عنایت فرمایا ، پھر غور سے دیکھا اور گویا ہوئے : خلدوا ہرے ۔ یقین جانیے ان پیار محبت بھرے الفاظ میں جو مزہ اور سرور تھا وہ علامہ مفتی ، حضرت ، قائد ملت کہلائے جانے میں کبھی بھی محسوس نہیں ہوا ، سچ ہے از دل خیز دبردل ریزد ؟ حیدر آباد میں ہم طلبہ کی شرارتیں کچھ زیادہ بڑھ گئی تھیں تو ناظم صاحب ( حضرت مولان رضوان القاسمی صاحب رحمة الله علیہ ) نے حضرت سے فرمایا کہ طلبہ کو کچھ نصیحتیں فرمادیجئے ۔ حضرت نے بڑے دردوکرب اورسوز دل کے ساتھ نصیحت فرمائی ، ان کا ایک جملہ آج بھی میرے دل پر نقش ہے : میں اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ اللہ تہیں بھی وہ درد عطافرمادے جو میرے دل میں ہے در دل ہی تھا جس نے کئ نسلوں کو ان کے خرمن علم وفضل کا خوشہ چیں بنادیا ۔ تعدیل وجرح کا اعلی معیار : بات طالب علم کی ہو یا استاد کی مصنف کی ہو یا مقررکی منتظم کی ہو یا سجادگان کی ، ہمیشہ ملمع و بناوٹ سے دور رہ کر اپنی رائے دیتے ، بسا اوقات خاموش رہتے لیکن استفسار پر حق گوئی سے باز نہ آتے ، مدارس اورتنظیموں کے سلسلہ میں مخلصانہ نقد و جرح فرماتے ، کوئی چیز قابل تحسین و آفریں ہوتی تو اس کا بھی برملا اعتراف کرتے ۔
المعهد العالی الاسلامی حیدرآباد نے اپنا دس سالہ جشن منایا معہد کے جملہ فارغین کو دعوت دی گئی ، حضرت الاستاد مولانا خالد سیف اللہ رحمانی مدظلہ نے از راہ کرم دست گیری اس نا چیز کو بھی یا دفرمالیا ، پروگرام میں حضرت علیہ الرحمہ بھی مدعو تھے ، جب ان کا نام پکارا گیا تو انہوں نے اپنے خطاب کا آغاز کچھ ان الفاظ میں کیا : ” جب مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے مجھ سے مشورہ لیا کہ میں ان ان مقاصد کے لیے معهد قائم کرنے جارہا ہوں ، تو میں نے ان سے کہا تھا کہ اچھا اب آپ بھی اپنی ایک دکان کھولنے جارہے ہیں ! ۔۔۔ جب میں نے ان الفاظ کو سنا تو مارےحیرت کے دوران خون تیز ہو گیا لیکن پھر حضرت نے سلسلہ جوڑا : یہ بات میں نے اس وقت کہی تھی لیکن آج جب میں معہد کے فضلاء دیکھ رہا ہوں ، مولانا خالد صاحب کے کام کو دیکھ رہا ہوں ، تو اپنی بات واپس لیتا ہوں ۔ پھر معہد کے لیے مزید توصیفی کلمات ارشادفرمائے ۔ آج کل ہم لوگوں میں بہت زیادہ افراط و تفریط ہے ، جب تعریف پر نکلتے ہیں تو تعریف ، چاپلوسی کی سرحدیں چھونے لگتی ہے ، جب نقد کرتے ہیں تو سلسله افتر اور بہتان تک دراز ہوجا تا ہے ۔ حضرت مولانا کا نقد وجرح اور تعدیل کے سلسلہ میں بہت ہی شاندار پیمانہ تھا نہ کبھی مداہنت سے کام لیا نہ کبھی چاپلوسی نے ان کے دامن میں جگہ پائی ۔ بحثیت محقق قلم کار : معاملہ درس کا ہو یا بیان کا یا پھر تصنیف و تالیف کا تحقیق اور جستجو کے اصول پرسختی کے ساتھ کار بند رہے ، حالاں کہ درس وتدریس اور نظامت کی مشغولیات کی وجہ سے تصنیف و تالیف کے میدان میں ان کا کوئی بڑا کارنامہ نہیں دکھائی دیتا ہے لیکن تصنیف وتالیف ، مقالہ مضمون نگاری میں وہ اپنے شاگردوں اور متوسلین کے لیے بہتر ین نقوش چھوڑ گئے ہیں ۔ یوں تو ہر موضوع پر حضرت کی مضبوط گرفت تھی تفسیر وحدیث ، اصول فقه فقه و وصرف ، بلاغت ، وہ کون سامضمون تھا جس کے جام کی تلجھٹ تک نہ پی گئے ہوں لیکن فقہ اور اصول فقہ سے ان کو خاص انسیت ، ذہنی ہم آہنگی اور شغف تھا ، اساطین امت نے ان کے تفقہ پر اعتماد کیا ہے ، حضرت امیر شریعت مولانا منت اللہ رحمانی علیہ الرحمہ اور حضرت قاضی مجاہد الاسلام صاحب قاسمی علیہ الرحمہ کا نام نامی بلا تکلف لے سکتے ہیں ۔ عرصہ دراز تک اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا میں دادتحقیق دینے کی تاریخ بھی اس سلسلہ کی ایک کڑی ہے ۔ فقہ اسلامی سے اس نا چیز کو برائے نام ہی سے ہیں جو بھی ہے وہ فقیہ العصر حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی اور حضرت علیہ الرحمہ سے شرف تلمذ کا ثمرہ ہے ۔ حضرت تصنیف و تالیف ، مقالہ نگاری یا مضمون نویسی میں جمع تفریق کر کے مواد جمع کرنے کے سخت خلاف تھے ،فرماتے تھے : اس طرح ادھر ادھر کی جمع کر کے لکھنے بیٹھ جاؤں تو ہر ہفتہ ایک نئی کتاب لکھ دوں تحقیق اس کا نام نہیں ہے تحقیق یہ ہے کہ قاری کو آپ وہ چیز دیجئے جو اس کی دسترس میں نہیں ہے ، یا کم از کم اس زبان میں نہیں ہے ، وہ پڑھ کر محسوس کرے کہ میں نے کوئی نئی چیز دریافت کی ہے ۔ اگر کوئی تحریر تحقیق ، بحث ونظر کے معیار پر نہیں اترتی تو اپنی مخصوص لب ولہجہ میں فرماتے : یہ مقالہ نہیں ہے منہ کالا ہے ؟ چنانچہ آپ ان کے کتابچوں ، مقالوں اورعلمی نوٹس کو پڑھیں تو معلوم ہوگا کہ چند سطریں نہیں ، معانی و مطالب کا ایک پرشور در یا بہ رہا ہے ۔ ہم طلبہ کو مشورہ دیتے کہ فقہ سے زیا دہ اصول فقہ پر توجہ دو نقل کے ساتھ عقل استعمال کرو ( یہاں نقل بمعنی کتاب ۔ نہیں ہے ) جب لکھوتوخوب پڑھو ۔۔۔
جدید مسائل کے حل میں مماثل جزئیات کی تلاش سے زیادہ فقہی اصول و کلیات کی جستجو فرماتے کہ جزئیات پر انطباق بہت سی وجوہ کی بنا پر ہمیشہ مفید اور کارگر ثابت نہیں ہوتا ، جبکہ اصول و کلیات پیچیدہ مضامین کی گرہ کشائی اور جدید مسائل کے حل میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں ۔ کامیاب منتظم : میرا حضرت سے تعلق استاد و شاگرد ، مخدوم و نیاز مند کا رہا ہے ، ان کی انتظامی صلاحیت و لیاقت کے جوہر بچشم خودتونہیں دیکھے لیکن زبان خلق کی گونج ہر سمت سنائی دی کہ وہ بہت اچھے منتظم تھے ، اشرف العلوم کنھواں کو بالخصوص اطراف و اکناف کے گاؤں سے جوڑنے میں بڑی محنت کی تھی ، دورے کیے ، اساتذہ کو استعمال کیا ، علاقہ کے سر بر آورده افراد کی تائید و حمایت حاصل کی مگر کیا مجال کہ اندرونی نظم و نسق میں کسی بھی قسم کی مداخلت برداشت کی جائے ، یہ ممکن نہیں تھا ، حضرت مولانا علیہ الرحمہ کا حسن انتظام تدبر ، بصیرت ، افراد شناسی اور اشرف العلوم سے اور اس کے آگے کہئے کہ اپنے فرائض و منصب سے آگہی ، کاموں سے بے پناہ محبت کی جلوہ سامانی تھی کہ جو اشرف العلوم اس کورده علاقہ میں قصہ پارینہ بنتا چلا جارہا تھا ، اس کے تن مردہ میں اس طرح جان ڈالی کہ وہ خطہ کا ہی نہیں ، بہار کا ہی نہیں ، میں پوری ذمہ داری کے ساتھ یہ کہہ سکتا ہوں کہ بھارت کے چند کارکرد اداروں میں شمار ہونے لگا ، اس کی عملی بہار ، اس کی روحانی رونق ، اس کی فرزانگی اور تابانی سے خطہ بقعہ نور بن گیا اور ہزاروں مربع کلو میٹر میں ناظم ، اساتذہ ، طلبہ ، ذمہ داروں اور مخلصین کی محبت اور محنت کی خوشبو پھیل گئی ۔ حضرت مولانا کی نظامت کے سلسلے میں حقیقت لکھنے کا حق اشرف العلوم کے اکابر کا ہے ، وہی اس موضوع کا حق ادا کر سکتے ہیں یقین ہے کہ اصحاب قلم نے اس موضوع پر اپنے جوہر دکھائے ہوں گے ۔
:کلمہ آخری
دنیا میں مختلف ضرورت کی اشیاء بنانے والے کو موجد ، معمار صناع اور نہ جانے کن کن الفاظ سے یاد رکھا جاتا ہے لیکن انسان کو انسان بنانے والے کو کیا کہیں گے ؟ میرے خیال میں انسان گر یا مفكر الاسلام حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندوی علیہ الرحمہ کے الفاظ میں آدم گرکہیں گے ۔ حضرت مولانا نے نصف صدی سے زائد عرصہ تک انسان سازی اور آدم گری کا تاریخی فریضہ انجام دیا ہے ، کیسے کیسے کند ذہن غبی اور نا اہلوں کومحقق قلم کار ، واعظ ، ناظم اور قائد بنادیا ، آج حضرت مولانا ہمارے درمیان نہیں رہے لیکن یقین جانیے ان کے ہزاروں علمی وارثین ، ان کے اقلیم علم وفن کی مینا کاری اور اسے سجانے سنوارنے میں لگے ہوئے ہیں ، سینکڑوں درسگاہوں میں اٹھنے والی قال الله وقال الرسول کی صدائیں دل نواز فیض زبیر کی مرہون منت ہے جس کا اجر انشاءاللہ انہیں ملے گا ۔ حضرت مولانا علیہ الرحمہ کا یہ نا اہل اور حقیر شاگردانہیں دل کی گہرائیوں سے خراج عقیدت و محبت پیش کرتا ہے اور اللہ کے حضور عرض گزار ہے کہ خداوند ! حضرت نے زندگی کا لمحہ لمحہ ، پل پل، تیری اطاعت ومحبت اور تیرے محبوب کی امت کے نونہالوں کو سجانے سنوارنے میں صرف کیا ہے ، خدایا ! انہیں جوار رحمت میں جگہ عطا فرمادے ، ان کے پسماندگان کو صبر جمیل سے نواز ، ان کی آرزوں اور خوابوں کے چراغ ، اشرف العلوم کو ہمیشہ فروزاں رکھ ! آمین یا رب العالمین ۔
(جزل سکریٹری جمیعت علماء نیپال )
ناقل از "وہ یاد رہیں گے ": خیام خالد مع سدرہ خالد ۔
اللہ ہم تمام کو راہ ہدایت سے نوازے


اللہ کا کرم
جواب دیںحذف کریںMasha Allah 😇😇
جواب دیںحذف کریںMashallah
جواب دیںحذف کریںAllah hazrat ko jannatul firdos me jagah ata farmaye
Nice
جواب دیںحذف کریں